9 اکتوبر کو ورلڈ پوسٹ ڈے (World Post Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ڈاک خانوں کی تاریخ غدر کے بعد انگریزی عہد سے شروع ہوتی ہے۔ 1879ء میں ہندوستان میں پہلی بار لیٹر باکس متعارف کروائے گئے۔ لاہور کا پہلا لیٹر باکس اسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کی مرکزی عمارت کے مشرقی زاویے پر ایک لیٹر باکس نصب ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس اس کی معین تاریخ موجود نہیں، لیکن قرائن سے اس کا تاریخی ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ 9 اکتوبر کی مناسبت سے 1929ء کے راوی میں شائع شدہ مضمون ”لیٹر باکس“ کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔
مصنف کا نام ایم زیڈ (M.Z) درج ہے۔
گمان غالب ہے کہ موصوف گورنمنٹ کالج کے طالب علم ہوں گے۔ البتہ شعبہ، سال اور پورے نام کے معلومات پردۂ اخفاء میں ہیں۔
”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آج کل ہر طرف کتنی سرعت سے خط ڈالنے والے ڈبے (لیٹر بکس) نمودار ہو رہے ہیں۔ لاہور میں آپ کو ہر چوراہے پر ایک لیٹر بکس مل جائے گا اور خطوط ڈاک میں ڈالنے میں آپ کو کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ مال روڈ، ایگزیبیشن روڈ، یونی ورسٹی روڈ، ہسپتال روڈ، کچہری روڈ، غرض ہر طرف محکمۂ ڈاک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بیدار ہو رہا ہے اور مجھ جیسے لوگوں کے لیے، جنھیں بھول جانے کی بری عادت ہے، ڈاک بھیجنے کا عمل آسان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے ڈاک میں ڈالنے کے لیے خط دے تو میں لازماً اسے بھول جاتا ہوں۔ خط میری دستکی میں پڑا رہتا ہے، جب کہ جس شخص کے نام وہ لکھا گیا ہوتا ہے اور جس نے اسے لکھا ہوتا ہے، دونوں جواب کے منتظر رہتے ہیں۔ اسی لیے میرے دوست مجھے کبھی خط ڈاک میں ڈالنے کے لیے نہیں دیتے، مبادا میں اس کام کو بالکل ہی بھول جاؤں۔
ایک دن نہایت عجیب واقعہ پیش آیا۔ شام ڈھلنے کے وقت جب میں گھر سے باہر نکل رہا تھا تو میرے گہرے دوست نے مجھے ڈاک میں ڈالنے کے لیے چند خطوط دیے اور خبردار کیا، اگر میں انہیں ڈاک میں ڈالنا بھول گیا تو اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہوں۔ میں نے حسبِ معمول وعدہ کر لیا، جیسا کہ اس سے پہلے درجنوں مرتبہ کر چکا تھا۔ لیکن گھر پہنچنے پر پیش آنے والے بھیانک نتائج کے خوف سے میں نے اپنی تمام تر توجہ ان خطوط پر مرکوز کر دی۔ ساتھ ہی میری نگاہیں کسی لیٹر بکس کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔
میں چلتا رہا، چلتا رہا، یہاں تک کہ آخرکار کچہری روڈ کے دائیں کونے پر مجھے ایک لیٹر بکس دکھائی دیا۔ میں خطوط ہاتھ میں تھامے اس کی طرف بڑھا، اس ارادے سے کہ قریب پہنچتے ہی انہیں اس میں ڈال دوں۔ میں نے خطوط ڈالنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ اے خدا! خوف کی انتہا ہو گئی! میں نے دیکھا لیٹر بکس خود میری طرف بڑھ رہا ہے۔ میرے جسم میں خوف کی سرد لہر دوڑ گئی۔ جہاں کھڑا تھا، وہیں جم کر رہ گیا۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور میں حیرت و دہشت سے گنگ ہو گیا۔ یہ کیفیت چند لمحوں تک برقرار رہی۔ پھر میں نے اپنے بکھرے ہوئے حواس کو مجتمع کیا، فوراً الٹے پاؤں مڑا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔
میں نے خطوط اپنی دوست کو واپس کر دیے، اسے سارا واقعہ سنایا اور قسم کھائی، آئندہ کبھی کسی کے خطوط ڈاک میں ڈالنے کی ذمہ داری نہیں لوں گا۔ لیکن اس نے مجھے بتایا محکمۂ ڈاک کے حکام نے اب ’’چلتے پھرتے لیٹر بکس“ نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ سائنس کی ایک حیرت انگیز ایجاد ہے، جس کی بدولت ایک لیٹر بکس اپنی جگہ بدل کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک جا سکتا ہے۔پھر اس نے وضاحت کی کہ لیٹر بکس دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک مستقل اور دوسرا متحرک۔ پہلی قسم کے لیٹر بکس کسی ایک جگہ رکھ دیے جاتے ہیں اور پھر وہیں پڑے رہتے ہیں۔ یوں وہ اس سڑک کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں، گویا ہمیشہ کے لیے اس کی زینت ہوں۔
لیکن متحرک لیٹر بکس صرف ایک سڑک کی زینت نہیں بنتے، بلکہ مال روڈ کی تمام سڑکوں پر، ہر وقت اور ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنرل پوسٹ آفس مال روڈ پر واقع ہے، لہٰذا قدرتی طور پر اس کے متحرک لیٹر بکس بھی اسی کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔
جس طرح ایک درخت کا اپنی شاخوں پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، اسی طرح محکمۂ ڈاک کا بھی اپنے متحرک لیٹر بکس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر درخت کی شاخیں چند ایک ہوں تو اس پر بوجھ زیادہ نہیں پڑتا، لیکن اس بے چارے درخت کو اپنی بے شمار شاخوں کے بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے۔
خدشہ ہے کہ اگر لیٹر بکس اسی تیزی سے بڑھتے رہے تو محکمۂ ڈاک بھی رفتہ رفتہ ان کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ یا شاید بڑھتے ہوئے وزن سے تنگ آ کر مادرِ زمین اپنا منہ پوری طرح کھول دے اور محکمۂ ڈاک کو اس کی تمام شاخوں سمیت نگل جائے۔ اگر ایسا ہو جائے تو کتنی فالتو چیزوں سے نجات مل جائے گی ۔
میں نے فیصلہ کیا کہ محکمۂ ڈاک کے حکام کو مشورہ دوں گا کہ اس تمام وبا سے نجات حاصل کرنے کے لیے وہ ’فلٹ‘ (Flit) نامی کیڑے مار دوا استعمال کریں۔
میری یہ بات سن کر میری دوست اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس نے بتایا کہ وہ تو مجھے یہ ساری من گھڑت کہانی سنا کر بے وقوف بنا رہا تھا۔ حقیقت میں متحرک لیٹر بکس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جب میں خطوط ڈالنے کے لیے لیٹر بکس کی طرف بڑھا تھا تو جس چیز کو میں نے لیٹر بکس سمجھا تھا، وہ دراصل لیٹر بکس تھا ہی نہیں، بلکہ گورنمنٹ کالج کا ایک طالب علم تھا، جس نے اپنا معمول کا سرخ بلیزر پہن رکھا تھا!
اب اس بات پر حیرت کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ محکمۂ ڈاک نے اپنے لیٹر بکسوں کا رنگ بھی ہلکا سرخ کر رکھا ہے!“

